9 months ago - Translate

غزل
علی ارمانؔ

دشت میں جب بھی کسی پیڑ کو تھک کر دیکھا
راستہ پاؤں کے چھالوں نے تپک کر دیکھا

اپنے کردار کو ناٹک میں نبھایا ہم نے
اورسوکھا ہوا اک پھول سسک کر دیکھا

اک پرندے کی چہک سے مری حیرت ٹوٹی
اور منظر نے مجھے آنکھ جھپک کر دیکھا

یوں تو اُس جسم کی سب آگ تھی مجھ پر مرکوز
شعلہءِلب نے مگر اور لپک کر دیکھا

میں نے جب ہاتھ بڑھایا نہیں اُس کی جانب
شاخِ بے صبر کے پھل نے مجھے پک کر دیکھا

میرے مصرعے کے مضافات میں کھلتا ہوا پھول
مرمریں جسم کی ٹہنی نے لچک کر دیکھا

علی ارمانؔ مری پیاس کو پینے کے لیے
مجھے صحرا کے سرابوں نے چمک کر دیکھا